تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 28

یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ مَا کَانَ اَبُوۡکِ امۡرَ اَ سَوۡءٍ وَّ مَا کَانَتۡ اُمُّکِ بَغِیًّا ﴿ۖۚ۲۸﴾
اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں کوئی بدکار تھی۔ En
اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی
En
اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یٰۤاُخْتَ هٰؔرُوْنَ اے ہارون کی بہن۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون بن عمران علیہ السلام نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّا تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں، نیکی اور بدی کے معاملے میں، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم علیہا السلام سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يا أخت هارونَ}: الظاهر أنَّه أخٌ لها حقيقيٌّ فنسبوها إليه، [وكانوا يسمون بأسماء الأنبياء، وليس هو هارون بن عمران أخا موسى، لأن بينهما قروناً كثيرة]، {ما كان أبوك امرأ سَوْءٍ وما كانت أمُّك بغيًّا}؛ أي؛ لم يكن أبواك إلاَّ صالحينِ سالمينِ من الشرِّ، وخصوصاً هذا الشرَّ الذي يشيرون إليه، وقصدُهم: فكيف كنتِ على غير وصفهما وأتيتِ بما لم يأتيا به؟! وذلك أن الذُّرِّيَّة في الغالب بعضها من بعض في الصلاح وضدِّه، فتعجَّبوا بحسب ما قام بقلوبهم؛ كيف وقع منها؟!