تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 27

فَاَتَتۡ بِہٖ قَوۡمَہَا تَحۡمِلُہٗ ؕ قَالُوۡا یٰمَرۡیَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَیۡئًا فَرِیًّا ﴿۲۷﴾
پھر وہ اسے اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لے آئی، انھوں نے کہا اے مریم! یقینا تو نے تو بہت انوکھا کام کیا ہے۔ En
پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا
En
اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لئے ہوئے وه اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب حضرت مریم علیہا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدْ جِئْتِ شَیْـًٔؔا فَرِیًّا تو نے بڑا عجیب کام کیا یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فلما تعلَّت مريمُ من نفاسها؛ أتتْ بعيسى قومَها تحمِلُه، وذلك لعلمها ببراءة نفسها وطهارتها، فأتتْ غير مباليةٍ ولا مكترثةٍ، فقالوا: {لقد جئتِ شيئاً فَرِيًّا}؛ أي: عظيماً وخيماً، وأرادوا بذلك البغي حاشاها من ذلك.