تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جب حضرت مریم علیہا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدْجِئْتِشَیْـًٔؔافَرِیًّا ﴾”تو نے بڑا عجیب کام کیا“ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فلما تعلَّت مريمُ من نفاسها؛ أتتْ بعيسى قومَها تحمِلُه، وذلك لعلمها ببراءة نفسها وطهارتها، فأتتْ غير مباليةٍ ولا مكترثةٍ، فقالوا: {لقد جئتِ شيئاً فَرِيًّا}؛ أي: عظيماً وخيماً، وأرادوا بذلك البغي حاشاها من ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔