تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 24

فَنَادٰىہَا مِنۡ تَحۡتِہَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِیۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّکِ تَحۡتَکِ سَرِیًّا ﴿۲۴﴾
تو اس نے اسے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، بے شک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی (جاری) کر دی ہے۔ En
اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے
En
اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزرده خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم علیہا السلام کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ سكَّن المَلَكُ رَوْعها، وثبَّتَ جأشها، وناداها من تحتها؛ لعلَّه من مكان أنزل من مكانها، وقال لها: لا تَحْزني؛ أي: لا تجزعي ولا تهتمِّي؛ فـ {قد جعل ربُّك تحتك سريًّا}؛ أي: نهراً تشربين منه.