تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 25

وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَۃِ تُسٰقِطۡ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا ﴿۫۲۵﴾
اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔ En
اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی
En
اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تروتازه پکی کھجوریں گرا دے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَهُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهُزِّي إليك بجذع النخلةِ تُساقِطْ عليك رُطَباً جنيًّا}؛ أي: طريًّا لذيذاً نافعاً.