تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 23

فَاَجَآءَہَا الۡمَخَاضُ اِلٰی جِذۡعِ النَّخۡلَۃِ ۚ قَالَتۡ یٰلَیۡتَنِیۡ مِتُّ قَبۡلَ ہٰذَا وَ کُنۡتُ نَسۡیًا مَّنۡسِیًّا ﴿۲۳﴾
پھر دردزہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، کہنے لگی اے کاش! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔ En
پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی
En
پھر درِد زه ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریم علیہ السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم علیہا السلام کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما قَرُبَ وِلادُها؛ ألجأها المخاضُ إلى جذع نخلةٍ، فلما آلمها وجع الولادة، ووجعُ الانفراد عن الطعام والشراب، ووجعُ قلبها من قالة الناس، وخافتْ عدمَ صبرِها؛ تمنَّتْ أنَّها ماتتْ قبل هذا الحادث وكانت نَسْياً منسيًّا؛ فلا تُذْكَر، وهذا التمنِّي بناءً على ذلك المزعج، وليس في هذه الأمنيَّة خيرٌ لها ولا مصلحةٌ، وإنَّما الخير والمصلحة بتقدير ما حَصَلَ.