تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے ان کو اپنے تمام احوال میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔﴿ وَسَلٰ٘مٌعَلَیْهِیَوْمَوُلِدَوَیَوْمَیَمُوْتُوَیَوْمَیُبْعَثُحَیًّا ﴾”اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر“ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں … اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا حصلت له السلامة من الله في جميع أحواله؛ مبادئها وعواقبها؛ فلذا قال: {وسلامٌ عليه يومَ وُلِدَ ويومَ يموتُ ويومَ يُبْعَثُ حيًّا}: وذلك يقتضي سلامته من الشيطان والشرِّ والعقاب في هذه الأحوال الثلاثة وما بينها، وأنَّه سالمٌ من النار والأهوال ومن أهل دار السلام؛ فصلوات الله وسلامه عليه وعلى والده وعلى سائر المرسلين، وجعلنا من أتباعِهِم إنَّه جوادٌ كريمٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔