تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ علیہما السلام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذْكُرْفِیالْكِتٰبِ ﴾”اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرْیَمَ﴾ مریم علیہا السلام کا۔ یہ مریم علیہا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت مریم علیہا السلام کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِانْتَبَذَتْ ﴾”وہ جدا ہوئی“ یعنی جب مریم علیہا السلام اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًاشَرْقِیًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر قصة زكريّا ويحيى، وكانت من الآيات العجيبة؛ انتقلَ منها إلى ما هو أعجب منها تدريجاً من الأدنى إلى الأعلى، فقال: {واذْكُرْ في الكتاب}: الكريم {مريمَ}: عليها السلام، وهذا من أعظم فضائلها؛ أنْ تُذْكَرَ في الكتاب العظيم الذي يتلوه المسلمون في مشارق الأرض ومغاربها؛ تُذْكَر فيه بأحسن الذكر وأفضل الثناء؛ جزاءً لعملها الفاضل وسعيها الكامل؛ أي: واذْكُرْ في الكتاب مريم في حالها الحسنة حين {انتبذت}؛ أي: تباعدت عن أهلها {مكاناً شرقيًّا}؛ أي: مما يلي الشرق عنهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔