تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 11

فَخَرَجَ عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنَ الۡمِحۡرَابِ فَاَوۡحٰۤی اِلَیۡہِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُکۡرَۃً وَّ عَشِیًّا ﴿۱۱﴾
تو وہ عبادت خانے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آیا، پس انھیں اشارے سے کہا کہ پہلے اور پچھلے پہر تسبیح کرو۔ En
پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو
En
اب زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشاره کرتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنْ سَبِّحُوْا بُؔكْرَةً وَّعَشِیًّا کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو کیونکہ یحییٰ علیہ السلام کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فاطمأنَّ قلبُه، واستبشر بهذه البشارة العظيمة، وامتثل لأمر الله له بالشكر بعبادته وذكرِهِ، فعكف في محرابه، وخرج على قومه منه {فأوحى إليهم}؛ أي: بالإشارة والرمز، {أن سبِّحوا بكرةً وعشيًّا}: لأنَّ البشارة بيحيى في حقِّ الجميع مصلحة دينية.