تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 91

کَذٰلِکَ ؕ وَ قَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبۡرًا ﴿۹۱﴾
ایسے ہی تھا اور یقینا ہم نے جو کچھ اس کے پاس تھا اس کا علم کی رو سے احاطہ کر رکھا تھا۔ En
(حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی
En
واقعہ ایسا ہی ہے اور ہم نے اس کے پاس کی کل خبروں کا احاطہ کر رکھا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا؛ فكلُّ هذا بتقدير الله له وعلمه به، ولهذا قال: {كذلك وقَدْ أَحَطْنا [بما لديه خبراً}؛ أي:] بما عنده من الخير والأسباب العظيمة، وعِلْمُنا معه حيثما توجَّه وسار.