تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 90

حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَطۡلُعُ عَلٰی قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہَا سِتۡرًا ﴿ۙ۹۰﴾
یہاں تک کہ جب وہ سورج نکلنے کے مقام پر پہنچا تو اسے ایسے لوگوں پر طلوع ہوتے ہوئے پایا جن کے لیے ہم نے اس کے آگے کوئی پردہ نہیں بنایا تھا۔ En
یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے ہم نے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی
En
یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ تک پہنچا تو اسے ایک ایسی قوم پر نکلتا پایا کہ ان کے لئے ہم نے اس سے اور کوئی اوٹ نہیں بنائی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَ٘طْلُ٘عُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًا پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فوصل إلى مطلع الشمس فـ {وجدها تطلُعُ على قومٍ لم نجعل لهم من دونِها سِتْراً}؛ أي: وجدها تطلُعُ على أناس ليس لهم سترٌ من الشمس: إما لعدم استعدادِهم في المساكن، وذلك لزيادة همجيَّتهم وتوحُّشهم وعدم تمدُّنهم، وإما لكون الشمس دائمة عندهم لا تغرُبُ [عنهم] غروباً يُذكر؛ كما يوجد ذلك في شرقيِّ إفريقيا الجنوبي، فوصل إلى موضع انقطع عنه علمُ أهل الأرض فضلاً عن وصولهم إياه بأبدانهم.