تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 92

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۹۲﴾
پھر وہ کچھ اور سامان ساتھ لے کر چلا۔ En
پھر اس نے ایک اور سامان کیا
En
وه پھر ایک سفر کے سامان میں لگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ اَ٘تْ٘بَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَ٘غَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم أتبع سبباً. حتى إذا بلغ بين السَّدَّيْن}: قال المفسِّرون: ذهب متوجِّهاً من المشرق قاصداً للشمال، فوصل إلى ما بين السدَّيْن، وهما سدَّان كانا معروفين في ذلك الزمان، سدَّان من سلاسل الجبال المتَّصلة يمنةً ويسرةً، حتى تتصل بالبحار ، بين يأجوجَ ومأجوجَ وبين الناس، {وجد}: من دون السدين {قوماً لا يكادون يفقهون قولاً}؛ لعُجْمَةِ ألسنتهم واستعجام أذهانِهِم وقلوبهم.