تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 88

وَ اَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَۨ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا ﴿ؕ۸۸﴾
اور رہا وہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو اس کے لیے بدلے میں بھلائی ہے اورعنقریب ہم اسے اپنے کام میں سے سراسر آسانی کا حکم دیں گے۔ En
اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے
En
ہاں جو ایمان ﻻئے اور نیک اعمال کرے اس کے لئے تو بدلے میں بھلائی ہے اور ہم اسے اپنے کام میں بھی آسانی ہی کا حکم دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الْحُسْنٰى اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا مَنْ آمن وعمل صالحاً فله جزاء الحُسْنى}؛ أي: فله الجنة والحالة الحسنة عند الله جزاءً يوم القيامة. {وسنقولُ له من أمرِنا يُسْراً}؛ أي: وسنُحْسِنُ إليه ونَلْطُفُ له بالقول ونيسِّر له المعاملة. وهذا يدلُّ على كونه من الملوك الصالحين [و] الأولياء العادلين العالمين؛ حيث وافق مرضاةَ الله في معاملة كلِّ أحدٍ بما يليق بحاله.