تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔
﴿ اَمَّامَنْظَلَمَ ﴾”جس نے ظلم کیا“ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوْفَنُعَذِّبُهٗثُمَّیُرَدُّاِلٰىرَبِّهٖفَیُعَذِّبُهٗعَذَابً٘انُّكْرًا ﴾”سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب“ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فكان عند ذي القرنين من السياسة الشرعيَّة ما استحقَّ به المدح والثناء؛ لتوفيق الله له لذلك، فقال: سأجعلهم قسمين: {أمَّا مَنْ ظَلَمَ}: بالكفر، {فسوف نعذِّبُه ثم يردُّ إلى ربِّه فيعذِّبه عذاباً نُكْراً}؛ أي: تحصُلُ له العقوبتان؛ عقوبة الدنيا، وعقوبة الآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔