تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 81

فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾
تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو ان کا رب اس کے بدلے ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور شفقت میں زیادہ قریب ہو۔ En
تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو
En
اس لئے ہم نے چاہا کہ انہیں ان کا پروردگار اس کے بدلے اس سے بہتر پاکیزگی واﻻ اور اس سے زیاده محبت اور پیار واﻻ بچہ عنایت فرمائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّؔنْهُ زَؔكٰوةً وَّاَ٘قْ٘رَبَ رُحْمًا پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهو وإن كان فيه إساءةٌ إليهما وقطعٌ لذُرِّيَّتهما؛ فإنَّ الله تعالى سيعطيهما من الذُّرِّيَّة ما هو خيرٌ منه، ولهذا قال: {فأرَدْنا أن يُبْدِلهَما ربُّهما خيراً منه زكاةً وأقربَ رُحْماً}؛ أي: ولداً صالحاً زكيًّا واصلاً لرحِمِهِ؛ فإنَّ الغلام الذي قُتِلَ لو بلغ لَعَقَّهما أشدَّ العقوق بحملهما على الكفر والطغيان.