اس آیت کی تفسیر آیت 80 میں تا آیت 82 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ لہٰذا ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس لڑکے کے بدلے انھیں اس سے بہتر [69] لڑکا عطا کرے جو پاکیزہ اخلاق والا اور قرابت کا بہت خیال رکھنے والا ہو۔
[69] چنانچہ اس مقتول لڑکے کے نعم البدل کے طور پر اللہ نے انھیں جو اولاد دی وہ اللہ کی اور والدین کی بڑی فرمانبردار تھی والدین اس سے محبت کرتے تھے اور وہ والدین سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس سلسلہ میں بھی میں نے کوئی برا کام نہیں کیا بلکہ نیک والدین کو گمراہ ہونے سے بچا لیا۔ پھر اللہ نے اس کا نعم البدل بھی انھیں عطا کرنا ان کے مقدر میں لکھ رکھا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کی رضا اور انسان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس نوجوان کا نام جیسور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ [صحیح مسلم:2661] خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے، حالانکہ اس کی زندگی ان کے لیے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہیئے کہ اللہ کی قضاء پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لیے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جو اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں، وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد:117/3:صحیح] قرآن کریم میں ہے «وَعَسَىٰأَنتَكْرَهُواشَيْئًاوَهُوَخَيْرٌلَّكُمْ»[2-البقرہ: 216] یعنی بہت ممکن ہے کہ ایک کام تم اپنے لیے برا اور ضرر والا سمجھتے ہو اور وہی دراصل تمہارے لیے بھلا اور مفید ہو۔ خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم نے چاہا کہ اللہ انہیں ایسا بچہ دے جو بہت پرہیزگار ہو اور جس پر ماں باپ کو زیادہ پیار ہو۔ یا یہ کہ جو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہو۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس لڑکے کے بدلے اللہ نے ان کے ہاں ایک لڑکی دی۔ مروی ہے کہ اس بچے کے قتل کے وقت اس کی والدہ کے حمل سے ایک مسلمان لڑکا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَرَدْنَاۤاَنْیُّبْدِلَهُمَارَبُّهُمَاخَیْرًامِّؔنْهُزَؔكٰوةًوَّاَ٘قْ٘رَبَرُحْمًا﴾”پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں “ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهو وإن كان فيه إساءةٌ إليهما وقطعٌ لذُرِّيَّتهما؛ فإنَّ الله تعالى سيعطيهما من الذُّرِّيَّة ما هو خيرٌ منه، ولهذا قال: {فأرَدْنا أن يُبْدِلهَما ربُّهما خيراً منه زكاةً وأقربَ رُحْماً}؛ أي: ولداً صالحاً زكيًّا واصلاً لرحِمِهِ؛ فإنَّ الغلام الذي قُتِلَ لو بلغ لَعَقَّهما أشدَّ العقوق بحملهما على الكفر والطغيان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔