تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 80

وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾
اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے تو ہم ڈرے کہ وہ ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں پھنسا دے گا۔ En
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
En
اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے۔ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز وپریشان نہ کر دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا الْغُلٰ٘مُ رہا وہ لڑکا یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّكُفْرًا پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأما الغلامُ}: الذي قتلتُه؛ {فكان أبواه مؤمِنَيْنِ فخشينا أن يُرهِقَهما طغياناً وكفراً}: وكان ذلك الغلام قد قُدِّر عليه أنَّه لو بَلَغَ لأرهق أبويه طغياناً وكفراً؛ أي: لحملهما على الطغيان والكفر: إمَّا لأجل محبَّتهما إيَّاه، أو للحاجة إليه؛ أو يحملهما على ذلك؛ أي: فقتلته؛ لاطِّلاعي على ذلك؛ سلامةً لدين أبويه المؤمِنَيْنِ، وأيُّ فائدة أعظمُ من هذه الفائدة الجليلة؟!