تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَمَّاالْغُلٰ٘مُ ﴾”رہا وہ لڑکا“ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَاَبَوٰهُمُؤْمِنَیْنِفَخَشِیْنَاۤاَنْیُّرْهِقَهُمَاطُغْیَانًاوَّكُفْرًا﴾”پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔“ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأما الغلامُ}: الذي قتلتُه؛ {فكان أبواه مؤمِنَيْنِ فخشينا أن يُرهِقَهما طغياناً وكفراً}: وكان ذلك الغلام قد قُدِّر عليه أنَّه لو بَلَغَ لأرهق أبويه طغياناً وكفراً؛ أي: لحملهما على الطغيان والكفر: إمَّا لأجل محبَّتهما إيَّاه، أو للحاجة إليه؛ أو يحملهما على ذلك؛ أي: فقتلته؛ لاطِّلاعي على ذلك؛ سلامةً لدين أبويه المؤمِنَيْنِ، وأيُّ فائدة أعظمُ من هذه الفائدة الجليلة؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔