رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی، جو دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی چھین کر لے لیتا تھا۔
En
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کرنے کا اراده کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاه تھا جو ہر ایک (صحیح سالم) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَمَّاالسَّفِیْنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتْلِمَسٰكِیْنَیَعْمَلُوْنَفِیالْبَحْرِ ﴾”وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے“ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدْتُّاَنْاَعِیْبَهَاوَؔكَانَوَرَآءَؔهُمْمَّؔلِكٌیَّ٘اْخُذُكُ٘لَّسَفِیْنَةٍغَصْبًا ﴾”تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر“ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أما السفينة}: التي خرقتها، {فكانتْ لمساكينَ يعملون في البحر}: يقتضي ذلك الرِّقَّة عليهم والرأفة بهم، {فأردتُ أن أَعِيبها وكان وراءَهُم مَلِكٌ يأخذ كلَّ سفينة غَصْباً}؛ أي: كان مرورهم على ذلك الملك الظالم؛ فكلُّ سفينة صالحةٍ تمرُّ عليه ما فيها عيبٌ غَصَبها وأخَذَها ظلماً، فأردتُ أن أخْرِقها ليكونَ فيها عيبٌ فتسلم من ذلك الظالم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔