تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 78

قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿۷۸﴾
کہا یہ میرے درمیان اور تیرے درمیان جدائی ہے، عنقریب میں تجھے اس کی اصل حقیقت بتائوں گا جس پر تو صبر نہیں کرسکا۔ En
خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں
En
اس نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان، اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دوں گا جس پر تجھ سے صبر نہ ہو سکا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس وقت موسیٰ علیہ السلام وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَبَیْنِكَ اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَ٘سْتَطِعْ عَّؔلَیْهِ صَبْرًا اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ لم يفِ موسى عليه السلام بما قال، واستعذر الخضرُ منه، فَـ {قال} له: {هذا فراقُ بيني وبينكَ}: فإنَّك شرطتَ ذلك على نفسك، فلم يبقَ الآن عذرٌ ولا موضعٌ للصُّحبة. {سأنبِّئك بتأويل ما لم تستطِعْ عليه صبراً}؛ أي: سأخبرك بما أنكرتَ عليَّ وأنبِّئك بأنَّ لي في ذلك من المآرب وما يؤول إليه الأمر.