تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 64

قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ ٭ۖ فَارۡتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا ﴿ۙ۶۴﴾
اس نے کہا یہی ہے جو ہم تلاش کر رہے تھے، سو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر پیچھا کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ En
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
En
موسیٰ نے کہا یہی تھا جس کی تلاش میں ہم تھے چنانچہ وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارْتَدَّا پھر الٹے پھرے وہ دونوں یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما قال له الفتى هذا القول، وكان عند موسى وعدٌ من الله أنَّه إذا فَقَدَ الحوت؛ وَجَدَ الخَضِرَ، فقال موسى: {ذلك ما كُنَّا نَبْغ}؛ أي: نطلب. {فارْتَدَّا}؛ أي: رجعا {على آثارِهما قصصاً}؛ أي: رجعا يَقُصَّان أثرهما [إلى المكان] الذي نسيا فيه الحوت.