تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 63

قَالَ اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ ٭ۖ عَجَبًا ﴿۶۳﴾
اس نے کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس چٹان کے پاس جاکر ٹھہرے تھے تو بے شک میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے بنالیا۔ En
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
En
اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنالیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١ٞ وَمَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّ٘یْطٰ٘نُ اَنْ اَذْكُرَهٗ کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما قال موسى لفتاه هذه المقالة؛ قال له فتاه: {أرأيتَ إذْ أوَيْنا إلى الصخرة فإنِّي نسيتُ الحوتَ} [أي: ألم تعلم حين آوانا الليل إلى تلك الصخرة المعروفة بينهما فإني نسيت الحوت]، {وما أنسانيهُ إلاَّ الشيطانُ}: لأنَّه السببُ في ذلك، {واتَّخذ سبيلَه في البحر عَجَباً}؛ أي: لما انسرب في البحر ودخل فيه؛ كان ذلك من العجائب. قال المفسرون: كان ذلك المسلك للحوت سرباً ولموسى وفتاه عجباً.