تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضر علیہ السلام تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَیْنٰهُرَحْمَةًمِّنْعِنْدِنَا ﴾”جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمْنٰهُمِنْلَّدُنَّاعِلْمًا ﴾”اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔“ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰ علیہ السلام کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰ علیہ السلام بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما وصلا إليه؛ {وجدا عبداً من عبادنا}: وهو الخضر، وكان عبداً صالحاً لا نبيًّا على الصحيح. {آتيْناه رحمةً من عندنا}؛ أي: أعطاه الله رحمةً خاصَّة، بها زاد علمه وحسن عمله، {وعلَّمناه من لَدُنَّا}؛ أي: من عندنا {عِلْماً}: وكان قد أُعطي من العلم ما لم يعطَ موسى، وإنْ كان موسى عليه السلام أعلمَ منه بأكثر الأشياء وخصوصاً في العلوم الإيمانيَّة والأصوليَّة؛ لأنَّه من أولي العزم من المرسلين، الذين فضَّلهم الله على سائر الخلق بالعلم والعمل وغير ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔