اس نے کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس چٹان کے پاس جاکر ٹھہرے تھے تو بے شک میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے بنالیا۔
En
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنالیا
En
اس آیت کی تفسیر آیت 62 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
63۔ 1 یعنی مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے سمندر میں سرنگ کی طرح راستہ بنادیا۔ حضرت یوشع ؑ نے مچھلی کو سمندر میں جاتے اور راستہ بنتے ہوئے دیکھا، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کو بتلانا بھول گئے۔ حتٰی کہ آرام کرکے وہاں سے پھر سفر شروع کردیا، اس دن اور اس کے بعد رات سفر کر کے، جب دوسرے دن حضرت موسیٰ ؑ کو تھکاوٹ اور بھوک محسوس ہوئی تو اپنے جوان ساتھی سے کہا لاؤ بھئی ناشتہ، ناشتہ کرلیں۔ اس نے کہا، مچھلی تو، جہاں ہم نے پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کیا تھا، وہاں زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی تھی اور وہاں عجب طریقے سے اس نے اپنا راستہ بنایا تھا، جس کا میں آپ سے تذکرہ کرنا بھول گیا۔ شیطان نے مجھے بھلا دیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
63۔ خادم نے جواب دیا، بھلا دیکھو! جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے تو میں آپ سے مچھلی کی بات کرنا بھول گیا۔ یہ شیطان ہی تھا جس نے مجھے آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھلا دیا۔ (بات یہ ہوئی کہ) مچھلی نے بڑے عجیب طریقے سے دریا میں اپنی راہ بنا لی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَیْتَاِذْاَوَیْنَاۤاِلَىالصَّخْرَةِفَاِنِّیْنَسِیْتُالْحُوْتَ١ٞوَمَاۤاَنْسٰىنِیْهُاِلَّاالشَّ٘یْطٰ٘نُاَنْاَذْكُرَهٗ﴾”کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔“ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَسَبِیْلَهٗفِیالْبَحْرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾”اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح“ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما قال موسى لفتاه هذه المقالة؛ قال له فتاه: {أرأيتَ إذْ أوَيْنا إلى الصخرة فإنِّي نسيتُ الحوتَ} [أي: ألم تعلم حين آوانا الليل إلى تلك الصخرة المعروفة بينهما فإني نسيت الحوت]، {وما أنسانيهُ إلاَّ الشيطانُ}: لأنَّه السببُ في ذلك، {واتَّخذ سبيلَه في البحر عَجَباً}؛ أي: لما انسرب في البحر ودخل فيه؛ كان ذلك من العجائب. قال المفسرون: كان ذلك المسلك للحوت سرباً ولموسى وفتاه عجباً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔