تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 60

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾
اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا میں نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں، یا مدتوں چلتا رہوں۔ En
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں
En
جب کہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں، خواه مجھے سالہا سال چلنا پڑے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نون علیہ السلام تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُ٘غَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں۔ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ ﴿ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا خواہ برسوں چلتا رہوں۔ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن نبيِّه موسى عليه السلام وشدَّة رغبته في الخير وطلب العلم أنَّه قال لفتاه؛ أي: خادمه الذي يلازمه في حضره وسفره، وهو يُوشَعُ بن نون، الذي نبَّأه الّله بعد ذلك: {لا أبْرَحُ حتى أبْلُغَ مجمع البحرين}؛ أي: لا أزال مسافراً وإن طالت عليَّ الشُّقة ولحقتني المشقَّة حتى أصل إلى مجمع البحرين، وهو المكان الذي أوحي إليه أنَّك سَتَجِد فيه عبداً من عباد الله العالمين، عنده من العلم ما ليس عندك، {أو أمضيَ حُقُباً}؛ أي: مسافة طويلة. المعنى أنَّ الشوق والرغبة حَمَلَ موسى أن قال لفتاه هذه المقالة.