تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ﴿۶۱﴾
تو جب وہ دونوں ان کے آپس میں ملنے کے مقام پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے، تو اس نے اپنا راستہ دریا میں سرنگ کی صورت بنالیا۔ En
جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا
En
جب وه دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے، وہاں اپنی مچھلی بھول گئے جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنالیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّا بَلَغَا پھر جب دونوں پہنچے یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کا خادم ﴿ مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا عزمٌ منه جازم، فلذلك أمضاه، {فلما بلغا}؛ أي: هو وفتاه {مَجْمَعَ بينهما نسيا حوتَهما}: وكان معهما حوتٌ يتزوَّدان منه ويأكلان، وقد وُعِدَ أنَّه متى فقد الحوت؛ فثمَّ ذلك العبد الذي قصدته. {فاتَّخذ}: ذلك الحوت {سبيلَه}؛ أي: طريقه {في البحر سَرَباً}. وهذا من الآيات، قال المفسرون: إنَّ ذلك الحوت الذي كانا يتزوَّدان منه لما وصلا إلى ذلك المكان أصابه بللُ البحر، فانسرب بإذن الله في البحر، وصار مع حيواناته حيًّا.