تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 59

وَ تِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَ جَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا ﴿٪۵۹﴾
اور یہی بستیاں ہیں، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، جب انھوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت رکھ دیا تھا۔ En
اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا
En
یہ ہیں وه بستیاں جنہیں ہم نے ان کے مظالم کی بنا پر غارت کردیا اور ان کی تباہی کی بھی ہم نے ایک میعاد مقرر کر رکھی تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلْكَ الْ٘قُ٘رٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا اور یہ بستیاں، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه سنَّته في الأولين والآخرين، أن لا يعاجِلَهم بالعقاب، بل يستدعيهم إلى التوبة والإنابة؛ فإنْ تابوا وأنابوا؛ غَفَرَ لهم ورحمهم وأزال عنهم العقاب، وإلاَّ؛ فإن استمرُّوا على ظلمهم وعنادهم، وجاء الوقتُ الذي جعله موعداً لهم؛ أنزل بهم بأسه، ولهذا قال: {وتلك القرى أهلكناهم لما ظلموا}؛ أي: بظلمهم، لا بُظلم منَّا. {وجعلنا لمهلكهم موعداً}؛ أي: وقتاً مقدَّراً لا يتقدَّمون عنه ولا يتأخَّرون.