ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 59

وَ تِلۡکَ الۡقُرٰۤی اَہۡلَکۡنٰہُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَ جَعَلۡنَا لِمَہۡلِکِہِمۡ مَّوۡعِدًا ﴿٪۵۹﴾
اور یہی بستیاں ہیں، ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، جب انھوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت رکھ دیا تھا۔ En
اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا
En
یہ ہیں وه بستیاں جنہیں ہم نے ان کے مظالم کی بنا پر غارت کردیا اور ان کی تباہی کی بھی ہم نے ایک میعاد مقرر کر رکھی تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) {وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ …:} مراد ہیں سبا، ثمود، مدین اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں، جن کی سرگزشت سے عرب کے تمام لوگ واقف تھے اور جن پر قریش کا اپنے سفروں میں آتے جاتے ہمیشہ گزر ہوتا تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

59۔ 1 اس سے مراد، عاد، ثمود اور حضرت شعیب ؑ اور حضرت لوط ؑ وغیرہ کی قومیں جو اہل حجاز کے قریب اور ان کے راستوں میں ہی تھیں۔ انھیں بھی اگرچہ ان کے ظلم کے سبب ہی ہلاک کیا گیا لیکن ہلاکت سے پہلے انھیں پورا موقع دیا گیا اور جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا ظلم و طغیان اس حد کو پہنچ گیا ہے جہاں سے ہدایت کے راستے بالکل مسدود ہوجاتے ہیں اور ان سے خیر اور بھلائی کی امید باقی نہیں رہی، تو پھر ان کی مہلت عمل ختم اور تباہی کا وقت شروع ہوگیا۔ پھر انھیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ یا اہل دنیا کے لئے عبرت کا نمونہ بنادیا گیا۔ یہ دراصل اہل مکہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم ہمارے آخری پیغمبر اور اشرف الرسل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر رہے ہو۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں مہلت مل رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ یہ مہلت تو سنت اللہ ہے، جو ایک وقت موعود تک ہر فرد گروہ اور قوم کو وہ عطا کرتا ہے جب یہ مدت ختم ہوجائے گی اور تم اپنے کفر وعناد سے باز نہیں آؤ گے تو پھر تمہارا حشر بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا جو تم سے پہلی قوموں کا ہوچکا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ اور یہ [57] (عذاب رسیدہ) بستیاں ہیں جب انہوں نے ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر ڈالا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت معین کر رکھا تھا۔
[57] ان تباہ شدہ بستیوں سے مراد وہ بستیاں ہیں جن پر اہل مکہ کا گذر ہوتا رہتا تھا اور وہ ان کی تباہی کے آثار بچشم خود دیکھ سکتے تھے اور یہ بستیاں قوم عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب علیہم السلام کی تھیں، اور قریش کو بتایا یہ جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو بھی ہم نے ان کی نافرمانی پر یکدم ہی ہلاک نہیں کر ڈالا تھا بلکہ ان کی ہلاکت کے لیے بھی ایک معین وقت مقرر تھا اسی طرح اگر ابھی تک تمہیں عذاب سے دو چار نہیں ہونا پڑا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر تمہارے یہی کرتوت رہے تو تم عذاب سے بچ سکو گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلْكَ الْ٘قُ٘رٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا اور یہ بستیاں، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه سنَّته في الأولين والآخرين، أن لا يعاجِلَهم بالعقاب، بل يستدعيهم إلى التوبة والإنابة؛ فإنْ تابوا وأنابوا؛ غَفَرَ لهم ورحمهم وأزال عنهم العقاب، وإلاَّ؛ فإن استمرُّوا على ظلمهم وعنادهم، وجاء الوقتُ الذي جعله موعداً لهم؛ أنزل بهم بأسه، ولهذا قال: {وتلك القرى أهلكناهم لما ظلموا}؛ أي: بظلمهم، لا بُظلم منَّا. {وجعلنا لمهلكهم موعداً}؛ أي: وقتاً مقدَّراً لا يتقدَّمون عنه ولا يتأخَّرون.