اور جس دن فرمائے گا پکارو میرے ان شریکوں کو جو تم نے گمان کر رکھے تھے، سو وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے۔
En
اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے
اور جس دن وه فرمائے گا کہ تمہارے خیال میں جو میرے شریک تھے انہیں پکارو! یہ پکاریں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب نہ دے گا ہم ان کے درمیان ہلاکت کا سامان کردیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جنھوں نے دنیا میں اس کے ساتھ شرک کیا تھا اور ان کے شرک کا پوری طرح ابطال کیا اور مشرک پر جہالت اور سفاہت کا حکم لگایا تو قیامت کے روز ان کے خود ساختہ شریکوں کی معیت میں ان کا جو حال ہوگا وہ بھی بیان کر دیا، چنانچہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا: ﴿ نَادُوْاشُ٘رَؔكَآءِیَ ﴾”پکارو میرے شریکوں کو۔“ یعنی تمھارے اپنے زعم باطل کے مطابق میرے جو شریک ہیں ان سب کو بلا لو۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں یعنی اب ان خود ساختہ شریکوں کو بلا لو تاکہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکیں اور تمھیں ان سختیوں سے نجات دلا سکیں۔ ﴿ فَدَعَوْهُمْفَلَمْیَسْتَجِیْبُوْالَهُمْ ﴾”پس یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہ دیں گے۔“ اس لیے کہ اس روز اقتدار اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہو گا کسی ہستی کے پاس ذرہ بھر بھی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو یا کسی اور کو کوئی نفع پہنچا سکے: ﴿ وَجَعَلْنَابَیْنَهُمْ ﴾”اور کر دیں گے ہم ان کے درمیان“ یعنی مشرکین اور ان کے شریکوں کے درمیان ﴿ مَّوْبِقًا ﴾”ہلاکت کا سامان“ یعنی ہلاکت کا گڑھا ان کے درمیان حائل کر دیں گے جو ان کو جدا کر دے گا اور ان کو ایک دوسرے سے دور کر دے گا۔ اس وقت ان کی ایک دوسرے کے ساتھ عداوت ظاہر ہو جائے گی، ان کے خود ساختہ شرکاء ان کا انکار کریں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَاحُشِرَالنَّاسُكَانُوْالَهُمْاَعْدَآءًؔوَّكَانُوْابِعِبَادَتِهِمْكٰفِرِیْنَ ﴾ (الاحقاف:46؍6) ”جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر حال من أشرك به في الدُّنيا، وأبطل هذا الشرك غاية الإبطال، وحكم بجهل صاحبه وسفَّهه؛ أخبر عن حالهم مع شركائهم يوم القيامة، وأنَّ الله يقول لهم: نادوا شُرَكائِيَ بزعمكم؛ أي: على موجب زعمكم الفاسد، وإلاَّ؛ فبالحقيقة ليس لله شريكٌ في الأرض ولا في السماء؛ أي: نادوهم لينفعوكم ويخلِّصوكم من الشدائد. {فَدَعَوْهم فلم يستجيبوا لهم}: لأنَّ الحكم والملك يومئذٍ لّله، لا أحد يملِكُ مثقال ذرَّة من النفع لنفسه ولا لغيره. {وجعلنا بينهم}؛ أي: بين المشركين وشركائهم {موبقاً}؛ أي: مهلكاً يفرِّق بينهم وبينهم، ويبعِدُ بعضهم من بعض، ويتبيَّن حينئذٍ عداوة الشركاء لشركائهم، وكفرهم بهم، وتبرِّيهم منهم؛ كما قال تعالى: {وإذا حُشِرَ الناسُ كانوا لهم أعداءً وكانوا بعبادتِهم كافرينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔