تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 53

وَ رَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مُّوَاقِعُوۡہَا وَ لَمۡ یَجِدُوۡا عَنۡہَا مَصۡرِفًا ﴿٪۵۳﴾
اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے تو یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے۔ En
اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے
En
اور گنہگار جہنم کو دیکھ کرسمجھ لیں گے کہ وه اسی میں جھونکے جانے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب قیامت کے روز حساب کتاب ختم ہو جائے گا اور مخلوق میں سے ہر گروہ اپنے اعمال کی بنا پر علیحدہ ہو جائے گا اور مجرموں کے بارے میں عذاب کا وعدہ پورا ہو جائے گا۔ پس وہ جہنم میں داخل ہونے سے قبل جہنم کو دیکھیں گے اور گھبرا جائیں گے اور یہ یقین کر کے کہ ان کو اس میں پھینکا جائے گا ان کا قلق بڑھ جائے گا۔ آیت کریمہ میں مذکور (ظن) کے بارے میں اہل تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں (ظن) سے مراد یقین ہے۔ پس انھیں یقین ہو جائے گا کہ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ ﴿ وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا اور نہیں پائیں گے وہ اس سے پھر جانے کی جگہ یعنی کوئی جائے پناہ نہیں جہاں وہ پناہ لے سکیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی ان کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ اس آیت کریمہ میں تخویف و ترہیب ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لما كان يوم القيامة، وحصل من الحساب ما حصل، وتميَّز كلُّ فريق من الخلق بأعمالهم، وحقَّت كلمة العذاب على المجرمين، فرأوا جهنَّم قبل دخولها، فانزعجوا، واشتدَّ قلقهم لظنِّهم أنهم مواقعوها، وهذا الظنُّ قال المفسرون: إنَّه بمعنى اليقين، فأيقنوا أنَّهم داخلوها، {ولم يجدوا عنها مصرِفاً}؛ أي: معدلاً يعدلون إليه، ولا شافع لهم من دون إذنه. وفي هذا من التخويف والترهيب ما ترعد له الأفئدة والقلوب.