تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 41

اَوۡ یُصۡبِحَ مَآؤُہَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا ﴿۴۱﴾
یا اس کا پانی گہرا ہو جائے، پھر تو اسے کبھی تلاش نہ کر سکے گا۔ En
یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو
En
یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تیرے بس میں نہ رہے کہ تو اسے ڈھونڈ ﻻئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا یا ہو جائے پانی اس کا یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوْرًا زمین میں اور گہرا ﴿ فَلَ٘نْ تَ٘سْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أو يصبحَ ماؤها} الذي مادتُها منه {غوراً}؛ أي: غائراً في الأرض. {فلنْ تستطيعَ له طَلَباً}؛ أي: غائراً لا يُستطاع الوصول إليه بالمعاول ولا بغيرها، وإنَّما دعا على جنته المؤمن غضباً لربِّه؛ لكونها غرَّته وأطغتْه واطمأنَّ إليها؛ لعلَّه ينيبُ، ويراجع رُشده، ويبصر في أمره.