تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَعَسٰؔىرَبِّیْۤاَنْیُّؤْتِیَنِخَیْرًامِّنْجَنَّتِكَوَیُرْسِلَعَلَیْهَا ﴾”پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر“ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسْبَانًامِّنَالسَّمَآءِ ﴾”عذاب آسمان سے“ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَ٘تُصْبِحَ ﴾”پس اس سبب سے وہ ہو جائے“﴿ صَعِیْدًازَلَقًا﴾”میدان صاف“ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فعسى ربِّي أن يُؤْتِيَني خيراً من جنَّتك ويرسلَ عليها}؛ أي: على جنَّتك التي طغيتَ بها وغَرَّتْك، {حُسباناً من السماء}؛ أي: عذاباً بمطر عظيم أو غيره. {فتصبحَ}: بسبب ذلك {صعيداً زَلَقاً}؛ أي: قد اقتلعت أشجارها، وتلفت ثمارها وغرق زرعُها، وزال نفعُها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔