تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 40

فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤۡتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَ یُرۡسِلَ عَلَیۡہَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ۴۰﴾
تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کر دے اور اس پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل میدان ہو جائے۔ En
تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے
En
بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا میدان بن جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَعَسٰؔى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَیُرْسِلَ عَلَیْهَا پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ عذاب آسمان سے یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَ٘تُصْبِحَ پس اس سبب سے وہ ہو جائے ﴿ صَعِیْدًا زَلَقًا میدان صاف کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فعسى ربِّي أن يُؤْتِيَني خيراً من جنَّتك ويرسلَ عليها}؛ أي: على جنَّتك التي طغيتَ بها وغَرَّتْك، {حُسباناً من السماء}؛ أي: عذاباً بمطر عظيم أو غيره. {فتصبحَ}: بسبب ذلك {صعيداً زَلَقاً}؛ أي: قد اقتلعت أشجارها، وتلفت ثمارها وغرق زرعُها، وزال نفعُها.