اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔
En
اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا
اور اس کے (سارے) پھل گھیر لئے گئے، پس وه اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا اپنے ہاتھ ملنے لگا اور وه باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وه شخص) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِیْطَبِثَمَرِهٖ ﴾”اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل“ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصْبَحَیُقَلِّبُكَفَّیْهِعَلٰىمَاۤاَنْفَقَفِیْهَا﴾”پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا“ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا: ﴿ یٰلَیْتَنِیْلَمْاُشْ٘رِكْبِرَبِّیْۤاَحَدًا﴾”کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فاستجاب الله دعاءه، {وأحيطَ بثمرِهِ}؛ أي: أصابه عذابٌ أحاط به واستهلكه فلم يبقَ منه شيءٌ، والإحاطة بالثمر يستلزمُ تَلَفَ جميع أشجارِهِ وثمارِهِ وزرعِهِ، فندم كلَّ الندامة، واشتدَّ لذلك أسفه. {فأصبحَ يقلِّبُ كفَّيْه على ما أنفق فيها}؛ أي: على كثرة نفقاته الدنيويَّة عليها، حيث اضمحلَّت وتلاشت، فلم يبق لها عوضٌ، وندم أيضاً على شِرْكِه وشرِّه، ولهذا قال: {ويقولُ يا ليتني لم أشرِكْ بربِّي أحداً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔