اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو توُ نے یہ کیوں نہ کہا ’’جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘‘اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔
En
اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو
تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے واﻻ ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے، اگر تو مجھے مال واوﻻد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال للكافر صاحبُهُ المؤمنُ: أنت وإن فخرتَ عليَّ بكثرة مالك وولدك، ورأيتني {أقلَّ منك مالاً وولداً}؛ فإنَّ ما عند الله خيرٌ وأبقى، وما يُرجى من خيره وإحسانه أفضلُ من جميع الدُّنيا التي يتنافس فيها المتنافسون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔