تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 38

لٰکِنَّا۠ ہُوَ اللّٰہُ رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۳۸﴾
لیکن میں، تو وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ En
مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
En
لیکن میں تو عقیده رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اس کے مومن ساتھی نے دیکھا کہ وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جما ہوا ہے تو اس نے مجادلات و شبہات کے وارد ہونے کے وقت اپنے رب کی شکر گزاری اور اپنے دین کا اعلان کرتے ہوئے بتایا: ﴿ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَلَاۤ اُشْ٘رِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ میرا رب ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ پس اس نے اپنے رب کی ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کی یکتائی اور اس کی اطاعت وعبادت کے ضروری ہونے کا اقرار کیا اور یہ کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا، پھر اس نے آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اور اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اگرچہ اس کے پاس مال اور اولاد قلیل ہے لیکن حقیقی نعمت ایمان اور اسلام ہی ہے اور ان کے سوا ہر چیز زائل ہو جانے والی، سزا اورعقوبت کی باعث ہے، چنانچہ فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا لما رأى صاحبُهُ المؤمن حاله واستمراره على كفرِهِ وطغيانه؛ قال مخبراً عن نفسه على وجه الشُّكر لربِّه والإعلان بدينِهِ عند ورود المجادلات والشُّبه: {لكنَّاْ هو الله ربِّي ولا أشرِكُ بربِّي أحداً}: فأقرَّ بربوبيَّة ربِّه وانفراده فيها والتزام طاعته وعبادته، وأنَّه لا يشرك به أحداً من المخلوقين.