اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے، جس میں کچھ شک نہیں، پھر (بھی) ظالموں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کر دیا۔
En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا
کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے وه ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے، اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے، لیکن ﻇالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَوَلَمْیَرَوْااَنَّاللّٰهَالَّذِیْخَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَ ﴾”کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین بنائے“ جو کہ انسانوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل امر ہے۔ ﴿قَادِرٌؔعَلٰۤىاَنْیَّخْلُقَمِثْلَهُمْ ﴾”وہ قادر ہے کہ پیدا کرے ان جیسوں کو“ کیوں نہیں! بے شک اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے ﴿ وَجَعَلَلَهُمْاَجَلًالَّارَیْبَفِیْهِ﴾”اور اس نے ان کے لیے ایک مدت مقرر کر دی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں “ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس گھڑی کو اچانک لے آئے اور اس بات کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد موت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں۔ ﴿ فَاَبَىالظّٰلِمُوْنَاِلَّاكُفُوْرًؔا ﴾”پھر بھی نہیں رہا جاتا ظالموں سے ناشکری کیے بغیر“ ظلم کرتے اور افترا کرتے ہوئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أوَلَمْ يَرَوْا أنَّ الله الذي خلق السمواتِ والأرض}: وهي أكبر من خلق الناس، {قادرٌ على أن يَخْلُقَ مثلَهم}: بلى إنَّه على ذلك قدير. {و} لكنه قد جَعَلَ لذلك {أجلاً لا رَيْبَ فِيهِ}: ولا شكَّ وإلا فلو شاء لجاءهم به بغتة ومع إقامته الحجج والأدلة على البعث؛ {فأبى الظَّالمونَ إلاَّ كُفوراً}: ظُلْماً منهم وافتراءً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔