تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 98

ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمۡ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوۡۤاءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًاءَ اِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِیۡدًا ﴿۹۸﴾
یہی ان کی جزا ہے، کیونکہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا واقعی ہم ضرور نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جانے والے ہیں؟ En
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
En
یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑے کئے جائیں گے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کی جزا دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے اور قیامت کے روز پر ایمان نہیں رکھتے تھے جس کے بارے میں تمام انبیاء و رسل نے آگاہ فرمایا اور تمام آسمانی کتابوں نے اس کے برپا ہونے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اپنے رب کو عاجز قرار دے کر اس کی قدرت کاملہ کا انکار کر دیا۔
﴿ وَقَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُ٘وْنَ۠ خَلْقًا جَدِیْدًا اور انھوں نے کہا، جب ہم ہو گئے ہڈیاں اور چورا چورا، کیا ہم اٹھائے جائیں گے نئے بنا کر یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا… وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ ان کی فاسد عقل کے مطابق ایسا ہونا بہت بعید تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولم يظلِمْهم الله تعالى، بل جازاهم بما كفروا بآياته وأنكروا البعثَ الذي أخبرت به الرُّسل، ونطقتْ به الكتب، وعجَّزوا ربَّهم؛ فأنكروا تمام قدرته، {وقالوا أإذا كنَّا عظامًا ورُفاتاً أإنَّا لَمَبْعوثونَ خلقاً جديداً}؛ أي: لا يكون هذا؛ لأنَّه في غاية البعد عند عقولهم الفاسدة.