تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 100

قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِکُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحۡمَۃِ رَبِّیۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَکۡتُمۡ خَشۡیَۃَ الۡاِنۡفَاقِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا ﴿۱۰۰﴾٪
کہہ دے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت تم خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور روک لیتے اور انسان ہمیشہ سے بہت بخیل ہے۔ En
کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے
En
کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ کہہ دیجیے! اگر تمھارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے جو کبھی ختم ہوتے ہیں نہ تباہ ہوتے ہیں ﴿ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ تو ضرور بند کر رکھتے، اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں یعنی اس خوف سے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کہیں ختم نہ ہو جائے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا ختم ہونا محال ہے مگر بخل اور کنجوسی انسان کی جبلت میں رکھ دیے گئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل لو أنتم تملِكونَ خزائنَ رحمةِ ربِّي}: التي لا تَنْفَدُ ولا تبيد، {إذاً لأمْسَكْتم خشية الإنفاق}؛ أي: خشية أن يَنْفَدَ ما تنفِقون منه، مع أنَّه من المحال أن تَنْفَدَ خزائنُ الله، ولكنَّ الإنسان مطبوعٌ على الشحِّ والبخل.