کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْلَّوْاَنْتُمْتَمْلِكُوْنَخَزَآىِٕنَرَحْمَةِرَبِّیْۤ ﴾”کہہ دیجیے! اگر تمھارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے“ جو کبھی ختم ہوتے ہیں نہ تباہ ہوتے ہیں ﴿ اِذًالَّاَمْسَكْتُمْخَشْیَةَالْاِنْفَاقِ﴾”تو ضرور بند کر رکھتے، اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں “ یعنی اس خوف سے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کہیں ختم نہ ہو جائے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا ختم ہونا محال ہے مگر بخل اور کنجوسی انسان کی جبلت میں رکھ دیے گئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل لو أنتم تملِكونَ خزائنَ رحمةِ ربِّي}: التي لا تَنْفَدُ ولا تبيد، {إذاً لأمْسَكْتم خشية الإنفاق}؛ أي: خشية أن يَنْفَدَ ما تنفِقون منه، مع أنَّه من المحال أن تَنْفَدَ خزائنُ الله، ولكنَّ الإنسان مطبوعٌ على الشحِّ والبخل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔