اور جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنھیں گمراہ کر دے تو توُ ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔
En
اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم اُن کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے
اللہ جس کی رہنمائی کرے تو وه ہدایت یافتہ ہے اور جسے وه راه سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ تو اس کا مددگار اس کے سوا کسی اور کو پائے، ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منھ حشر کریں گے، دراں حالیکہ وه اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جب کبھی وه بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ہدایت اور گمراہی صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے تو اسے آسان راہیں میسر کر دیتا ہے اور اس کو تنگی سے بچالیتا ہے اور وہی درحقیقت ہدایت یافتہ ہے اور جسے گمراہ کرتا ہے اسے اس کے نفس کے حوالے کر کے اس سے الگ ہو جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی راہ نہیں دکھا سکتا اور ان کا اس روز کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو ان کی اللہ کے عذاب کے مقابلے میں مدد کر سکے جب اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان کے چہروں کے بل، نہایت رسوائی کی حالت میں اندھے اور گونگے بنا کر اکٹھے کرے گا وہ دیکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے۔ ﴿ مَاْوٰىهُمْ ﴾”ان کا ٹھکانا“ یعنی ان کی جائے قرار اور ان کا گھر ﴿ جَهَنَّمُ﴾”جہنم ہے“ جہاں ہر قسم کا حزن و غم اور عذاب جمع ہے۔ ﴿ كُلَّمَاخَبَتْ ﴾”جب وہ بجھنے لگے گی“﴿زِدْنٰهُمْسَعِیْرًا﴾”تو ہم ان پر اس آگ کو اور بھڑکا دیں گے۔“ عذاب ان پر سے منقطع نہ ہو گا۔ ان کو موت آئے گی نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه المنفرد بالهداية والإضلال؛ فمن يهدِهِ فييسِّره لليسرى ويجنِّبه العسرى؛ فهو المهتدي على الحقيقة، ومن يُضْلِلْه فيخذله ويَكِله إلى نفسه: فلا هادي له من دون الله، وليس له وليٌّ ينصره من عذاب الله حين يحشُرُهم الله على وجوهِهِم، خزياً عُمياً وبُكماً، لا يبصرون، ولا ينطقون. {مأواهم}؛ أي: مقرُّهم ودارهم {جهنَّمُ}: التي جمعت كلَّ همٍّ وغمٍّ وعذابٍ. {كلَّما خَبَتْ}؛ أي: تهيّأت للانطفاء، {زِدْناهم سعيراً}؛ أي: سَعَّرْناها بهم، لا يُفَتَّرُ عنهم العذابُ، ولا يُقضى عليهم فيموتوا، ولا يخفف عنهم من عذابها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔