تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 85

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾
اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔ En
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے
En
اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دے دیجئیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کو باز رکھنے کو متضمن ہے جو ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن سے ان کا مقصد محض تعنت اور مسئول کو لاجواب کرنا ہوتا ہے۔ درآں حالیکہ وہ اہم امور کے بارے میں سوال نہیں کرتے۔ پس وہ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں جس کا تعلق مخفی امور سے ہے۔ کوئی شخص بھی روح کا وصف اور اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس علم میں بھی قاصر ہیں جس کے وہ محتاج ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ وہ ان کے سوال کا یہ جواب دیں۔ ﴿ قُ٘لِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ کہہ دیجیے! روح میرے رب کے امر سے ہے یعنی من جملہ مخلوقات سے ہے جن کے بارے میں میرے رب نے حکم دیا کہ ہو جاؤ اور وہ وجود میں آگئیں، لہٰذا ان کے بارے میں سوال کرنا تمھارے لیے کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر امور میں بھی تمھارا علم معدوم ہے۔ اس آیت مقدسہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جب مسئول سے کسی معاملے میں سوال کیا جائے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ (لایعنی) سوال کا جواب دینے سے گریز کرے جو سائل نے پوچھا ہے اور اس امر میں اس کی راہنمائی کرے جس کا وہ محتاج ہے اور جو اس کے لیے فائدہ مند ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا متضمِّن لردع من يسأل المسائل التي لا يُقْصَدُ بها إلاَّ التعنُّت والتَّعجيز، ويدع السؤال عن المهمِّ، فيسألون عن الرُّوح التي هي من الأمور الخفيَّة التي لا يتقنُ وصفها وكيفيتها كلُّ أحدٍ، وهم قاصرون في العلم الذي يحتاجُ إليه العباد، ولهذا أمر الله رسوله أن يُجيبَ سؤالهم بقوله: {قل الرُّوحُ من أمر ربِّي}؛ أي: من جملة مخلوقاته التي أمرها أن تكونَ فكانَتْ، فليس في السؤال عنها كبيرُ فائدةٍ مع عدم علمِكُم بغيرها.

وفي هذه الآية دليلٌ على أنَّ المسؤول إذا سُئِلَ عن أمرٍ، الأَوْلَى بالسائل غيره أنْ يعرِضَ عن جوابه، ويدلَّه على ما يحتاجُ إليه، ويرشِدَه إلى ما ينفعه.