اور یقینا اگر ہم چاہیں تو ضرور ہی وہ وحی (واپس) لے جائیں جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے، پھر تو اپنے لیے اس کے متعلق ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہیں پائے گا۔
En
اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں۔ پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن اور وحی جسے اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے وہ آپ پر اور بندوں پر رحمت اور احسان ہے قرآن اور وحی علی الاطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل و کرم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا… پس جس ہستی نے آپ پر یہ فضل و کرم کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اسے واپس لے لے پھر آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو یہ فضل و کرم واپس لا سکے اور آپ کو کوئی ایسا وکیل اور کارساز نہیں ملے گا جو اللہ کے حضور اس بارے میں بات کر سکے۔ پس آپ کو اس بارے میں خوش ہونا چاہیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہنی چاہئیں اور تکذیب کرنے والوں کی تکذیب اور گمراہوں کا استہزا و تمسخر آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سامنے جلیل ترین نعمت پیش کی گئی انھوں نے اسے ٹھکرا دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت حقیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّ القرآن والوحي الذي أوحاه إلى رسوله رحمةٌ منه عليه وعلى عبادِهِ، وهو أكبر النعم على الإطلاق على رسوله؛ فإنَّ فضل الله عليه كبيرٌ لا يقادَرُ قدرُهُ؛ فالذي تفضَّل به عليك قادرٌ على أن يَذْهَبَ به ثم لا تجِدُ رادًّا يردُّه ولا وكيلاً يتوجَّه عند الله فيه؛ فَلْتَغْتَبِطْ به وتَقَرَّ به عينُك، ولا يحزنك تكذيبُ المكذبين واستهزاءُ الضالين؛ فإنَّهم عرضت عليهم أجلُّ النعم فردُّوها لهوانهم على الله وخِذْلانِهِ لهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔