تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 84

قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ فَرَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ہُوَ اَہۡدٰی سَبِیۡلًا ﴿٪۸۴﴾
کہہ دے ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، سو تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔ En
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
En
کہہ دیجئیے! کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر عامل ہے جو پوری ہدایت کے راستے پر ہیں انہیں تمہارا رب ہی بخوبی جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ كُ٘لٌّ کہہ دیجیے ہر ایک یعنی لوگوں میں سے۔ ﴿ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر یعنی اس طریقے پر جو اس کے احوال کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ نیک بندوں میں سے ہیں تو ان کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ان کا عمل رب کائنات کی رضا کی خاطر ہوتا ہے اور اگر وہ نیک اور ابرار لوگوں کی بجائے ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے الگ ہو گیا ہو تو ان کے لیے صرف وہی عمل مناسب ہوتا ہے جو اس نے مخلوق کو خوش کرنے کے لیے کیا ہو اور ان کے موافق صرف وہی عمل ہوتا ہے جو ان کی اغراض کے موافق ہو۔ ﴿ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰؔى سَبِیْلًا پس تمھارا رب اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔ یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پس اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہے جو صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ اسے اپنے حال پر چھوڑ کر ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل كُلٌّ}: من الناس، {يعملُ على شاكلتِهِ}؛ أي: على ما يَليق به من الأحوال: إن كانوا من الصفوة الأبرار؛ لم يشاكِلْهم إلا عملهم لربِّ العالمين، ومن كانوا من غيرِهِم من المخذولين؛ لم يناسِبْهم إلاَّ العمل للمخلوقين، ولم يوافِقْهم إلاَّ ما وافق أغراضهم. وربك {أعلم بمن هو أهدى سبيلاً}: فيعلمُ مَنْ يَصْلُحُ للهداية فيهديه، ومن لا يَصْلُحُ لها فيخذله ولا يهديه.