تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 81

وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾
اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔ En
اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے
En
اور اعلان کردے کہ حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقُ٘لْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وقل جاء الحقُّ وزَهَقَ الباطل}: والحقُّ هو ما أوحاه الله إلى رسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، فأمره الله أن يقولَ ويعلِنَ: قد جاء الحقُّ الذي لا يقوم له شيءٌ، وزَهَقَ الباطلُ؛ أي: اضمحل وتلاشى. {إنَّ الباطل كان زَهوقاً}؛ أي: هذا وصف الباطل، ولكنَّه قد يكون له صولةٌ وروجان إذا لم يقابلْه الحقُّ، فعند مجيء الحقِّ؛ يضمحلُّ الباطل فلا يبقى له حراك، ولهذا لا يروج الباطل إلاَّ في الأزمان والأمكنة الخالية من العلم بآيات الله وبيناته. وقوله: