اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لئے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقُ٘لْرَّبِّاَدْخِلْنِیْمُدْخَلَصِدْقٍوَّاَخْرِجْنِیْمُخْرَجَصِدْقٍ ﴾”کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا“ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجْعَلْلِّیْمِنْلَّدُنْكَسُلْطٰنًانَّصِیْرًا ﴾”اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل“ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {وقل ربِّ أدخِلْني مُدْخَلَ صدقٍ وأخرِجْني مُخْرَجَ صدقٍ}؛ أي: اجعل مداخلي ومخارجي كلَّها في طاعتك وعلى مرضاتك، وذلك لتضمُّنها الإخلاص وموافقته الأمر. {واجعل لي من لدنك سلطاناً نصيراً}؛ أي: حجة ظاهرة وبرهاناً قاطعاً على جميع ما آتيه وما أذره، وهذا أعلى حالة يُنْزِلُها الله العبد، أنْ تكون أحوالُهُ كلُّها خيراً ومقربةً له إلى ربِّه، وأن يكون له على كلِّ حالة من أحواله دليلٌ ظاهرٌ، وذلك متضمِّن للعلم النافع والعمل الصالح للعلم بالمسائل والدلائل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔