اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز کے ساتھ بہکا سکے بہکا لے اور اپنے سوار اور اپنے پیادے ان پر چڑھا کر لے آ اور اموال اور اولاد میں ان کا حصہ دار بن اور انھیں وعدے دے اور شیطان دھوکا دینے کے سوا انھیں وعدہ نہیں دیتا۔
En
اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے
ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا ﻻ اور ان کے مال اور اوﻻد میں سے اپنا بھی ساجھا لگا اور انہیں (جھوٹے) وعدے دے لے۔ ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر فریب ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاسْتَفْزِزْمَنِاسْتَطَعْتَمِنْهُمْبِصَوْتِكَ﴾”اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔“ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجْلِبْعَلَیْهِمْبِخَیْلِكَوَرَجِلِكَ﴾”اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔“ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكْهُمْفِیالْاَمْوَالِوَالْاَوْلَادِ ﴾”اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں۔“ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدْهُمْ﴾ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں، بنا بریں فرمایا: ﴿ وَمَایَعِدُهُمُالشَّ٘یْطٰ٘نُاِلَّاغُ٘رُوْرًؔا ﴾”شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے“ یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلشَّ٘یْطٰ٘نُیَعِدُؔكُمُالْ٘فَقْ٘رَوَیَ٘اْمُرُؔكُمْبِالْفَحْشَآءِ١ۚوَاللّٰهُیَعِدُؔكُمْمَّغْفِرَةًمِّؔنْهُوَفَضْلًا﴾ (البقرۃ:2؍268) ”شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمره الله أن يفعلَ كلَّ ما يقدِرُ عليه من إضلالهم، فقال: {واستفزِزْ من استطعتَ منهم بصوتِكَ}: ويدخل في هذا كلُّ داعٍ إلى المعصية، {وأجْلِبْ عليهم بخيلِكَ ورَجِلكَ}: ويدخل فيه كلُّ راكبٍ وماشٍ في معصية الله؛ فهو من خيل الشيطان ورَجِلِهِ. والمقصود أنَّ الله ابتلى العباد بهذا العدوِّ المبين الداعي لهم إلى معصية الله بأقواله وأفعاله. {وشارِكْهم في الأموال والأولاد}: وذلك شاملٌ لكلِّ معصية تعلَّقت بأموالهم وأولادهم من منع الزكاة والكفَّارات والحقوق الواجبة، وعدم تأديب الأولاد وتربيتهم على الخير وترك الشرِّ، وأخذ الأموال بغير حقِّها أو وضعها بغير حقِّها أو استعمال المكاسب الرديَّة، بل ذَكَرَ كثيرٌ من المفسِّرين أنه يدخُلُ في مشاركة الشيطان في الأموال والأولادِ تركُ التسمية عند الطعام والشراب والجماع، وأنَّه إذا لم يُسَمِّ الله في ذلك؛ شارك فيه الشيطان؛ كما ورد فيه الحديث. {وعِدْهم}: الأوعادَ المزخْرَفَة التي لا حقيقة لها، ولهذا قال: {وما يَعِدُهُم الشيطانُ إلاَّ غروراً}؛ أي: باطلاً مضمحلًّا؛ كأن يزيِّن لهم المعاصي والعقائد الفاسدة، ويعدهم عليها الأجر؛ لأنَّهم يظنُّون أنَّهم على الحق، وقال تعالى: {الشيطان يَعِدُكُم الفقر ويأمُرُكم بالفحشاءِ والله يَعِدُكُم مغفرةً منه وفضلاً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔