تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 65

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں اور تیرا رب کافی کار ساز ہے۔ En
جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے
En
میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں۔ تیرا رب کارسازی کرنے واﻻ کافی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ خبر دینے کے بعد کہ شیطان بندوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے سے اس کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبودیت، ایمان پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ پر توکل، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ عِبَادِیْ لَ٘یْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْ٘طٰ٘نٌ بے شک میرے بندوں پر تجھے غلبہ نہیں ہوگا یعنی تجھے ان پر کوئی تسلط ہو گا نہ تو ان کو بھٹکا سکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے قیام عبودیت کی بنا پر ان سے ہر قسم کے شر کو دور ہٹا دے گا، شیطان مردود سے ان کی حفاظت کرے گا اور ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ﴿ وَكَ٘فٰى بِرَبِّكَ وَؔكِیْلًا اور آپ کا رب کافی ہے بطور کارساز یعنی جو کوئی اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو آپ کا رب اس کا کارساز ہے اور اس کے لیے کافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما أخبر عما يريد الشيطان أن يفعل بالعباد؛ ذَكَرَ ما يُعْتَصَمُ به من فتنته، وهو عبوديَّة الله والقيام بالإيمان والتوكُّل، فقال: {إنَّ عبادي ليس لك عليهم سلطانٌ}؛ أي: تسلُّط وإغواءٌ، بل الله يدفع عنهم بقيامهم بعبوديَّته كلَّ شرٍّ، ويحفظُهم من الشيطان الرجيم، ويقوم بكفايتهم. {وكفى بربِّك وكيلاً}: لمن توكَّل عليه، وأدَّى ما أمر به.