تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {بِصَوْتِكَ:} شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ آواز ہے جو اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے، اس میں گانا بجانا، بدکاری اور ہر برے کام کی دعوت اور ترغیب شامل ہے۔
➌ { وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ …:} جلب کھینچ کرلانے کو کہتے ہیں اور اس شور کو بھی جس سے گھوڑے کو تیز دوڑانا مقصود ہو۔ {”خَيْلٌ“} گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں اور گھڑ سواروں کی جماعت کو بھی۔ {”رَجِلٌ“} (پیادہ) واحد ہے۔ (قاموس) مراد جنس ہے۔
➍ { وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ:} اموال میں شیطان کی شراکت یہ ہے کہ حرام طریقے سے کمایا جائے، یا حرام کاموں میں خرچ کیا جائے، مثلاً سود، رشوت، چوری ڈاکے اور دھوکے وغیرہ سے مال کمایا جائے اور اسے غیر اللہ کے نام پر یا بدکاری و بے حیائی اور نافرمانی کے کاموں میں خرچ کیا جائے۔ اولاد میں شراکت یہ ہے کہ شیطان انھیں دین حنیف کی تعلیمات کے خلاف پرورش دلانے میں کامیاب ہو جائے، ان کے لیے زنا اور اللہ کی نافرمانی کے مواقع میسر کر دے، انھیں اپنے سلف صالحین سے متنفر کر دے، میاں بیوی کی صحبت کے وقت دونوں کو شیطان سے بچانے کی دعا مانگنا فراموش کروا دے، تاکہ پیدا ہونے والی اولاد میں اس کا حصہ ہو جائے، یا ان کے نام ایسے رکھوا دے جن سے ظاہر ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور نے عطا کیے ہیں۔ مشرکین عرب اپنی اولاد کے نام عبد العزیٰ، عبد شمس اور عبد وَدّ وغیرہ رکھتے تھے۔ ہمارے زمانے میں رسول بخش، حسین بخش، پیر بخش، غلام جیلانی اور پیراں دتہ وغیرہ مشرکانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ مزید وہ آیات جن میں مذکور اشیاء میں شیطان کی مشارکت کا ذکر ہے وہ یہ ہیں سورۂ انعام (۱۳۶، ۱۳۸) اور سورۂ یونس (۵۴)۔
➎ { وَعِدْهُمْ:} یعنی انھیں جھوٹے وعدے دلا، مثلاً یہ کہ اگر شرک کرو گے تو یہ فائدہ ہو گا، سودی کاروبار سے یہ نفع ہو گا اور یہ کہ دنیا میں تمھیں مال و دولت ملی ہے، آخرت میں بھی ملے گی اور یہ کہ ابھی بہت وقت ہے عیش کر لو، پھر توبہ کر لینا وغیرہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو پانچ حکم دیے ہیں: {” اذْهَبْ “ ” اسْتَفْزِزْ “ ” اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ “ ” شَارِكْهُمْ “} اور {” عِدْهُمْ “} یہ تمام احکام تہدید، یعنی ڈانٹنے کے لیے ہیں، جیسے فرمایا: «اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ» [حٰمٓ السجدۃ: ۴۰] ”جو چاہو کرو۔“ یہ احکام تعمیل کے لیے نہیں ہیں، کیونکہ یہ سب گناہ ہیں اور اللہ تعالیٰ گناہ کا حکم نہیں دیتا۔
➏ { وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا:} یعنی شیطان کے سب وعدے محض دھوکا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مفہوم کئی اور مقامات پر بھی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء(۱۲۰)، حدید (۱۴) اور ابراہیم (۲۲) اس سے پہلے شیطان کو مخاطب کر کے بات ہو رہی تھی، یہاں شیطان کو غائب کے صیغے سے ذکر کیا، یہ التفات شیطان کی تحقیر کے لیے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[81] یعنی تجھے اس بات کی بھی اجازت ہے کہ ڈاکوؤں کی طرح اپنی پوری جمعیت کے ساتھ۔ خواہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتی ہو یا جنوں اور شیطانوں سے، اولاد آدم پر پوری شان و شوکت کے ساتھ حملہ آور ہو اور ان میں جس قدر تباہی اور گمراہی مچا سکتا ہے مچا لے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے جسے تو بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔
اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لے کر جس پر تجھ سے حملہ ہوسکے حملہ کرلے۔ «رَجِلِ» جمع ہے «راجل» کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔
ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا، سود خوری ان سے کرا، برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ۔
اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زناکاری جس سے اولاد ہو۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بیوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو۔ اولادوں کے نام عبد الحارث، عبد الشمس اور عبد فلاں رکھا ہو۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو، یا اس کو ساتھ کیا ہو، یہی شیطان کی شرکت ہے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865]
پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمره الله أن يفعلَ كلَّ ما يقدِرُ عليه من إضلالهم، فقال: {واستفزِزْ من استطعتَ منهم بصوتِكَ}: ويدخل في هذا كلُّ داعٍ إلى المعصية، {وأجْلِبْ عليهم بخيلِكَ ورَجِلكَ}: ويدخل فيه كلُّ راكبٍ وماشٍ في معصية الله؛ فهو من خيل الشيطان ورَجِلِهِ. والمقصود أنَّ الله ابتلى العباد بهذا العدوِّ المبين الداعي لهم إلى معصية الله بأقواله وأفعاله. {وشارِكْهم في الأموال والأولاد}: وذلك شاملٌ لكلِّ معصية تعلَّقت بأموالهم وأولادهم من منع الزكاة والكفَّارات والحقوق الواجبة، وعدم تأديب الأولاد وتربيتهم على الخير وترك الشرِّ، وأخذ الأموال بغير حقِّها أو وضعها بغير حقِّها أو استعمال المكاسب الرديَّة، بل ذَكَرَ كثيرٌ من المفسِّرين أنه يدخُلُ في مشاركة الشيطان في الأموال والأولادِ تركُ التسمية عند الطعام والشراب والجماع، وأنَّه إذا لم يُسَمِّ الله في ذلك؛ شارك فيه الشيطان؛ كما ورد فيه الحديث. {وعِدْهم}: الأوعادَ المزخْرَفَة التي لا حقيقة لها، ولهذا قال: {وما يَعِدُهُم الشيطانُ إلاَّ غروراً}؛ أي: باطلاً مضمحلًّا؛ كأن يزيِّن لهم المعاصي والعقائد الفاسدة، ويعدهم عليها الأجر؛ لأنَّهم يظنُّون أنَّهم على الحق، وقال تعالى: {الشيطان يَعِدُكُم الفقر ويأمُرُكم بالفحشاءِ والله يَعِدُكُم مغفرةً منه وفضلاً}.