ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 64

وَ اسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡہُمۡ بِصَوۡتِکَ وَ اَجۡلِبۡ عَلَیۡہِمۡ بِخَیۡلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ وَ عِدۡہُمۡ ؕ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۶۴﴾
اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز کے ساتھ بہکا سکے بہکا لے اور اپنے سوار اور اپنے پیادے ان پر چڑھا کر لے آ اور اموال اور اولاد میں ان کا حصہ دار بن اور انھیں وعدے دے اور شیطان دھوکا دینے کے سوا انھیں وعدہ نہیں دیتا۔ En
اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے
En
ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا ﻻ اور ان کے مال اور اوﻻد میں سے اپنا بھی ساجھا لگا اور انہیں (جھوٹے) وعدے دے لے۔ ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر فریب ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) ➊ {وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ …: اسْتَفْزِزْ فَزٌّ} سے مشتق ہے جس کا معنی ہلکا و خفیف ہے۔ {رَجُلٌ فَزٌّ أَيْ خَفِيْفٌ } ہلکا آدمی، یعنی تو جسے اپنی آواز سے ہلکا اور بے وقعت بنا سکے بنا لے۔ شاہ رفیع الدین رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے اور بہکا جس کو بہکا سکے کیونکہ آدمی ہلکا اور بے قدر و قیمت ہو کر ہی بہکتا ہے۔
➋ {بِصَوْتِكَ:} شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ آواز ہے جو اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے، اس میں گانا بجانا، بدکاری اور ہر برے کام کی دعوت اور ترغیب شامل ہے۔
➌ { وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ …:} جلب کھینچ کرلانے کو کہتے ہیں اور اس شور کو بھی جس سے گھوڑے کو تیز دوڑانا مقصود ہو۔ {خَيْلٌ} گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں اور گھڑ سواروں کی جماعت کو بھی۔ {رَجِلٌ} (پیادہ) واحد ہے۔ (قاموس) مراد جنس ہے۔
➍ { وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ:} اموال میں شیطان کی شراکت یہ ہے کہ حرام طریقے سے کمایا جائے، یا حرام کاموں میں خرچ کیا جائے، مثلاً سود، رشوت، چوری ڈاکے اور دھوکے وغیرہ سے مال کمایا جائے اور اسے غیر اللہ کے نام پر یا بدکاری و بے حیائی اور نافرمانی کے کاموں میں خرچ کیا جائے۔ اولاد میں شراکت یہ ہے کہ شیطان انھیں دین حنیف کی تعلیمات کے خلاف پرورش دلانے میں کامیاب ہو جائے، ان کے لیے زنا اور اللہ کی نافرمانی کے مواقع میسر کر دے، انھیں اپنے سلف صالحین سے متنفر کر دے، میاں بیوی کی صحبت کے وقت دونوں کو شیطان سے بچانے کی دعا مانگنا فراموش کروا دے، تاکہ پیدا ہونے والی اولاد میں اس کا حصہ ہو جائے، یا ان کے نام ایسے رکھوا دے جن سے ظاہر ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور نے عطا کیے ہیں۔ مشرکین عرب اپنی اولاد کے نام عبد العزیٰ، عبد شمس اور عبد وَدّ وغیرہ رکھتے تھے۔ ہمارے زمانے میں رسول بخش، حسین بخش، پیر بخش، غلام جیلانی اور پیراں دتہ وغیرہ مشرکانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ مزید وہ آیات جن میں مذکور اشیاء میں شیطان کی مشارکت کا ذکر ہے وہ یہ ہیں سورۂ انعام (۱۳۶، ۱۳۸) اور سورۂ یونس (۵۴)۔
➎ { وَعِدْهُمْ:} یعنی انھیں جھوٹے وعدے دلا، مثلاً یہ کہ اگر شرک کرو گے تو یہ فائدہ ہو گا، سودی کاروبار سے یہ نفع ہو گا اور یہ کہ دنیا میں تمھیں مال و دولت ملی ہے، آخرت میں بھی ملے گی اور یہ کہ ابھی بہت وقت ہے عیش کر لو، پھر توبہ کر لینا وغیرہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو پانچ حکم دیے ہیں: { اذْهَبْ اسْتَفْزِزْ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ شَارِكْهُمْ } اور { عِدْهُمْ } یہ تمام احکام تہدید، یعنی ڈانٹنے کے لیے ہیں، جیسے فرمایا: «اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ» ‏‏‏‏ [حٰمٓ السجدۃ: ۴۰] جو چاہو کرو۔ یہ احکام تعمیل کے لیے نہیں ہیں، کیونکہ یہ سب گناہ ہیں اور اللہ تعالیٰ گناہ کا حکم نہیں دیتا۔
➏ { وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا:} یعنی شیطان کے سب وعدے محض دھوکا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مفہوم کئی اور مقامات پر بھی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء(۱۲۰)، حدید (۱۴) اور ابراہیم (۲۲) اس سے پہلے شیطان کو مخاطب کر کے بات ہو رہی تھی، یہاں شیطان کو غائب کے صیغے سے ذکر کیا، یہ التفات شیطان کی تحقیر کے لیے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64۔ 1 آواز سے مراد پرفریب دعوت یا گانے، موسیقی اور لہو و لعب کے دیگر آلات ہیں، جن کے ذریعے سے شیطان بکثرت لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ 64۔ 2 ان لشکروں سے مراد، انسانوں اور جنوں کے وہ سوار اور پیادے لشکر ہیں جو شیطان کے چیلے اور اس کے پیروکار ہیں اور شیطان ہی کی طرح انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں، یا مراد ہے ہر ممکن ذرائع جو شیطان گمراہ کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ 64۔ 3 مال میں شیطان کے شامل ہونے کا مطلب حرام ذریعے سے مال کمانا اور حرام طریقے سے خرچ کرنا ہے اور اسی طرح مویشیوں کو بتوں کے ناموں پر وقف کردینا مثلًا بحیرہ، سائبہ وغیرہ اور اولاد میں شرکت کا مطلب، زنا کاری، عبدالات، عبدالعزیٰ وغیرہ نام رکھنا، غیر اسلامی طریقے سے ان کی تربیت کرنا کہ برے اخلاق و کردار کے حامل ہوں، ان کو تنگ دستی کے خوف سے ہلاک یا زندہ درگور کردینا، اولاد کو مجوسی، یہودی و نصرانی وغیرہ بنانا اور بغیر مسنون دعا پڑھے بیوی سے ہم بستری کرنا وغیرہ وغیرہ ہے۔ ان تمام صورتوں میں شیطان کی شرکت ہوجاتی ہے۔ 64۔ 4 کہ کوئی جنت و دوزخ نہیں ہے، یا مرنے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں ہے وغیرہ۔ 64۔ 5 غُروُر (فریب) کا مطلب ہوتا ہے غلط کام کو اس طرح مزین کرکے دکھانا کہ وہ اچھا اور درست لگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ اور انھیں گھبراہٹ میں ڈال جنہیں تو اپنی آواز [80] سے گھبراہٹ میں ڈال سکے، اپنے سوار اور پیادے [81] ان پر چڑھا لا، مال اور اولاد [82] میں ان کا شریک بن اور ان سے وعدہ کر۔ اور شیطان جو بھی وعدہ کرتا ہے [83] وہ بس دھوکا ہی ہوتا ہے۔
[80] شیطان کی آواز سے مراد:۔
شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ پکار ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی پر اکساتی ہو اور یہ آواز عموماً شیطانوں کے چیلوں چانٹوں ہی سے آتی ہے پھر اس شیطانی آواز میں ہر قسم کا گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، گانا بجانا، موسیقی، راگ رنگ اور مزامیر طرب و نشاط کی محفلیں سب کچھ آتا ہے جو اللہ کی یاد سے انسان کو غافل بنائے رکھتی ہیں اور اس کی اصل فطرت پر پردہ ڈالے رکھتی ہیں۔
[81] یعنی تجھے اس بات کی بھی اجازت ہے کہ ڈاکوؤں کی طرح اپنی پوری جمعیت کے ساتھ۔ خواہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتی ہو یا جنوں اور شیطانوں سے، اولاد آدم پر پوری شان و شوکت کے ساتھ حملہ آور ہو اور ان میں جس قدر تباہی اور گمراہی مچا سکتا ہے مچا لے۔
[82] شیطان کی مال و اولاد میں شرکت کی صورتیں:۔
یعنی مال کمانے کے جتنے ناجائز ذرائع انسان اختیار کرتا ہے وہ سب شیطانی انگیخت اور اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کرتا ہے۔ اور حرام خور انسان شیطان کے مشورے ایسے قبول کرتا ہے جیسے شیطان بھی اس کے کام کاج میں شریک ہے۔ پھر شیطان تو انسان کو یہ راہ دکھا کر الگ ہو جاتا ہے اور سارا گناہ کا بار بنی آدم پر پڑ جاتا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے مشرکین مکہ اپنے اموال کھیتی اور چوپایوں میں سے اللہ کا حصہ الگ نکالتے تھے اور اپنے بتوں کا الگ۔ اسی طرح جو مال بھی بتوں کے چڑھاوے، قربانی یا غیر اللہ کی نذر و نیاز کے طور پر دیا جاتا ہے وہ سب بنی آدم کے اموال میں شیطان کی شراکت ہے۔ اور اولاد میں شراکت یہ ہے کہ اولاد تو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اور اس کا نام پیراں دتہ، غوث بخش، عبد النبی، میراں بخش، یا اسی قسم کے دوسرے شرکیہ نام رکھ کر اولاد کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جائے یا اولاد کے لیے اللہ کے سوا دوسروں کے در پر جائے اور ان کے ہاں قربانیاں اور نذر و نیاز دے۔
[83] شیطان کے وعدے:۔
شیطان کے وعدوں اور ان وعدوں کی حقیقت کے لیے سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 22 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شیطانی آواز کا بہکاوا ٭٭
ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرمالی اور ارشاد ہوا کہ «قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:37-38]‏‏‏‏ ’ وقت معلوم تک مہلت ہے ‘
تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے جسے تو بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔
اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لے کر جس پر تجھ سے حملہ ہوسکے حملہ کرلے۔ «رَجِلِ» جمع ہے «راجل» کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔
شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو بھڑکاتے اور بہکاتے رہتے ہیں۔ انہیں گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی معصیت میں جو سواری پر ہو اور پیدل ہو، وہ شیطانی لشکر میں ہے۔ ایسے جن بھی ہیں اور انسان بھی ہیں جو اس کے مطیع ہیں۔ جب کسی پر آوازیں اٹھائی جائیں تو عرب کہتے ہیں اجلب فلان علی فلان۔‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ گھوڑ دوڑ میں جلب نہیں، } ۱؎ [سنن ابوداود:2581،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ وہ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ جلبہ کا اشتقاق بھی اسی سے ہے یعنی آوازوں کا بلند ہونا۔
ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا، سود خوری ان سے کرا، برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ۔
اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زناکاری جس سے اولاد ہو۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بیوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو۔ اولادوں کے نام عبد الحارث، عبد الشمس اور عبد فلاں رکھا ہو۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو، یا اس کو ساتھ کیا ہو، یہی شیطان کی شرکت ہے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ پڑھ لے «‏‏‏‏اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ‏‏‏‏ یعنی یا اللہ تو ہمیں شیطان سے بچا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا فرمائے۔ تو اگر اس میں کوئی بچہ اللہ کی طرف سے ٹھیر جائے گا تو اسے ہرگز ہرگز کبھی بھی شیطان کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:141]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے۔
پھر فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے میری حفاظت میں ہیں، میں انہیں شیطان رجیم سے بچاتا رہوں گا۔ اللہ کی وکالت اس کی حفاظت اس کی نصرت اس کی تائید بندوں کو کافی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مومن اپنے شیطان پر اس طرح قابو پالیتا ہے جیسے وہ شخص جو کسی جانور کو لگام چڑھائے ہوئے ہو۔ } ۱؎ [مسند احمد:380/2:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا زور لگا لے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ اور بہکا لے ان میں سے جس کو تو بہکا سکے اپنی آواز سے۔ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو معصیت کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ﴿ وَاَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَرَجِلِكَ اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے۔ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں سوار ہو کر یا پیدل بھاگ دوڑ کرتا ہے، شیطان کے سواروں اور پیادوں میں داخل ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کھلے دشمن کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا ہے جو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَشَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ اور ساجھا کر ان سے مالوں میں اور اولاد میں۔ اس میں ہر وہ معصیت شامل ہے جو ان کے مال اور اولاد سے متعلق ہے، مثلاً:زکاۃ، کفارات، حقوق واجبہ ادا نہ کرنا، اولاد کی بھلائی اختیار کرنے اور شر کو ترک کرنے کی تربیت نہ کرنا، ناحق مال لینا یا مال کو ناحق خرچ کرنا اور روزگار میں حرام ذریعے اختیار کرنا وغیرہ بلکہ بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے اور جماع کرتے وقت بسم اللہ سے ابتدا نہ کرنا، مال اور اولاد میں شیطان کو شریک کرنے میں داخل ہے کیونکہ حدیث(صحیح البخاري، الأطعمۃ، باب التسمیۃ… الخ، حدیث: 5376) میں وارد ہے کہ ان مذکورہ کاموں میں بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَعِدْهُمْ یعنی ان کے ساتھ سجا سجا کر جھوٹے وعدے کر جن کی کوئی حقیقت نہیں، بنا بریں فرمایا: ﴿ وَمَا یَعِدُهُمُ الشَّ٘یْطٰ٘نُ اِلَّا غُ٘رُوْرًؔا شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے، وہ فریب ہوتا ہے یعنی شیطان ان کے ساتھ جو وعدہ کرتا ہے وہ محض جھوٹا اور انتہائی بودا ہوتا ہے، جیسے وہ ان کے سامنے معاصی اور عقائد فاسدہ کو سجا کر پیش کرتا ہے، ان پر اجر کا وعدہ کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلشَّ٘یْطٰ٘نُ یَعِدُؔكُمُ الْ٘فَقْ٘رَ وَیَ٘اْمُرُؔكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَاللّٰهُ یَعِدُؔكُمْ مَّغْفِرَةً مِّؔنْهُ وَفَضْلًا (البقرۃ:2؍268) شیطان تمھیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمھیں فحش کام کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمھیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أمره الله أن يفعلَ كلَّ ما يقدِرُ عليه من إضلالهم، فقال: {واستفزِزْ من استطعتَ منهم بصوتِكَ}: ويدخل في هذا كلُّ داعٍ إلى المعصية، {وأجْلِبْ عليهم بخيلِكَ ورَجِلكَ}: ويدخل فيه كلُّ راكبٍ وماشٍ في معصية الله؛ فهو من خيل الشيطان ورَجِلِهِ. والمقصود أنَّ الله ابتلى العباد بهذا العدوِّ المبين الداعي لهم إلى معصية الله بأقواله وأفعاله. {وشارِكْهم في الأموال والأولاد}: وذلك شاملٌ لكلِّ معصية تعلَّقت بأموالهم وأولادهم من منع الزكاة والكفَّارات والحقوق الواجبة، وعدم تأديب الأولاد وتربيتهم على الخير وترك الشرِّ، وأخذ الأموال بغير حقِّها أو وضعها بغير حقِّها أو استعمال المكاسب الرديَّة، بل ذَكَرَ كثيرٌ من المفسِّرين أنه يدخُلُ في مشاركة الشيطان في الأموال والأولادِ تركُ التسمية عند الطعام والشراب والجماع، وأنَّه إذا لم يُسَمِّ الله في ذلك؛ شارك فيه الشيطان؛ كما ورد فيه الحديث. {وعِدْهم}: الأوعادَ المزخْرَفَة التي لا حقيقة لها، ولهذا قال: {وما يَعِدُهُم الشيطانُ إلاَّ غروراً}؛ أي: باطلاً مضمحلًّا؛ كأن يزيِّن لهم المعاصي والعقائد الفاسدة، ويعدهم عليها الأجر؛ لأنَّهم يظنُّون أنَّهم على الحق، وقال تعالى: {الشيطان يَعِدُكُم الفقر ويأمُرُكم بالفحشاءِ والله يَعِدُكُم مغفرةً منه وفضلاً}.