تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 6

ثُمَّ رَدَدۡنَا لَکُمُ الۡکَرَّۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَمۡدَدۡنٰکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ جَعَلۡنٰکُمۡ اَکۡثَرَ نَفِیۡرًا ﴿۶﴾
پھر ہم نے تمھیں دوبارہ ان پر غلبہ دیا اور تمھیں مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمھیں تعداد میں زیادہ کر دیا۔ En
پھر ہم نے دوسری بات تم کو اُن پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا
En
پھر ہم نے ان پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اوﻻد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے واﻻ بنا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم رَدَدْنا لكمُ الكَرَّةَ عليهم}؛ أي: على هؤلاء الذين سُلطوا عليكم فأجْلَيْتموهم من دياركم، {وأمدَدْناكم بأموال وبنينَ}؛ أي: أكثرنا أرزاقكم وكثَّرناكم وقوَّيناكم عليهم، {وجعلناكُم أكثرَ نفيراً}: منهم، وذلك بسبب إحسانكم وخضوعكم لله.