تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 5

فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾
پھر جب ان دونوں میں سے پہلی کا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی والے کچھ بندے بھیجے، پس وہ گھروں کے اندر گھس گئے اور یہ ایسا وعدہ تھا جو (پورا) کیا ہوا تھا۔ En
پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا
En
ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلہ پر اپنے بندے بھیج دیئے جو بڑے ہی لڑاکے تھے۔ پس وه تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گئے اور اللہ کا یہ وعده پورا ہونا ہی تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰ٘ىهُمَا پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَ٘اْسٍ شَدِیْدٍ اپنے بندے سخت لڑائی والے بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوْا خِلٰ٘لَ الدِّیَ٘ارِ پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإذا جاء وَعْدُ أولاهما}؛ أي: أولى المرتين اللتين يفسدون فيهما؛ أي: إذا وقع منهم ذلك الفسادُ، {بَعَثْنا عليكم}: بعثاً قدريًّا وسلَّطنا عليكم تسليطاً كونيًّا جزائيًّا، {عباداً لنا أولي بأسٍ شديدٍ}؛ أي: ذوي شجاعة وعددٍ وعُدَّةٍ، فنصرهم اللهُ عليكم، فقتلوكم وسَبَوْا أولادكم ونهبوا أموالكم، وجاسوا {خلالَ الدِّيار}: فهتكوا الدُّور، ودخلوا المسجد الحرام، وأفسدوه. {وكان وعداً مفعولاً}: لا بدَّ من وقوعه لوجود سببه منهم. واختلف المفسِّرون في تعيين هؤلاء المسلَّطين؛ إلاَّ أنَّهم اتَّفقوا على أنَّهم قومٌ كفارٌ: إمَّا من أهل العراق، أو الجزيرة، أو غيرها؛ سلَّطهم الله على بني إسرائيل لما كَثُرَتْ فيهم المعاصي وتركوا كثيراً من شريعتهم وطَغَوا في الأرض.