تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 7

اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾
اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے، پھر جب آخری بار کا وعدہ آیا (تو ہم نے اور بندے تم پر بھیجے) تاکہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں، جیسے وہ پہلی بار اس میں داخل ہوئے اور تا کہ جس چیز پر غلبہ پائیں اسے برباد کر دیں، بری طرح برباد کرنا۔ En
اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں
En
اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائده کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وه تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں۔ اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا اور اگر برائی کی تو اپنے لیے یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں۔ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں۔ ﴿وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِیُتَبِّرُوْا اور خراب کر دیں یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوْا جس جگہ پر وہ غالب آجائیں۔ ﴿ تَتْبِیْرًا پوری طرح خراب کرنا پس وہ تمھارے گھروں، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنْ أحسنتُم أحسنتُم لأنفسِكم}: لأنَّ النفع عائدٌ إليكم حتى في الدُّنيا كما شاهدتم من انتصِاركم على أعدائكم. {وإنْ أسأتُم فلها}؛ أي: فلأنفسكم يعود الضرر؛ كما أراكم الله من تسليط الأعداء. {فإذا جاء وعدُ الآخرة}؛ أي: المرَّة الأخرى التي تفسِدون فيها في الأرض؛ سلَّطْنا أيضاً عليكم الأعداء، {ليسوءوا وجوهكم}: بانتصارهم عليكم وسَبْيِكم، {ولِيَدْخُلوا المسجد كما دَخَلوه أوَّل مرَّةٍ}: والمراد بالمسجد مسجد بيت المقدس، {ولِيُتَبِّروا}؛ أي: يخرِّبوا ويدمِّروا {ما عَلَوْا}: عليه {تتبيراً}: فيخرِّبوا بيوتكم ومساجدكم وحروثكم.