اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔
En
اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو
ہمیں نشانات (معجزات) کے نازل کرنے سے روک صرف اسی کی ہے کہ اگلے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں۔ ہم نے ﺛمودیوں کو بطور بصیرت کے اونٹنی دی لیکن انہوں نے اس پر ﻇلم کیا ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہو جائے گا، جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنھوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پانی پینے کے دن تمام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح اگر ان کے پاس بڑے بڑے معجزات آتے، تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اس لیے کہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چیز ان سے اوجھل اور ان پر مشتبہ ہو گئی جو رسول لے کر آیا تھا کہ آیا یہ حق ہے یا باطل کیونکہ رسول تو ان کے پاس بے شمار دلائل و براہین لے کر آیا ہے جو اس کی دعوت کی حقانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ دعوت اس شخص کی ہدایت کی موجب ہے جو ہدایت کا طلب گار ہے ان کے سوا دیگر معجزات و براہین بھی انھی دلائل کی مانند ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر چکے ہیں انھوں نے جو سلوک ان کے ساتھ کیا تھا ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے اور ان کی حالت یہ ہو تو معجزات کا نازل نہ کرنا ان کے لیے بہتر اور فائدہ مند ہے۔ ﴿وَمَانُرْسِلُبِالْاٰیٰتِاِلَّاتَخْوِیْفًا﴾”اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر ڈرانے کے لیے“ یعنی ان آیات کا یہ مقصد نہ تھا کہ یہ ایمان کی موجب اور اس کی طرف دعوت دیتی تھیں اور ایمان کا حصول ان کے بغیر ممکن نہ تھا بلکہ ان آیات کا مقصد صرف تخویف و ترہیب تھا تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى رحمته بعدم إنزاله الآيات التي يقترحُ بها المكذِّبون، وأنَّه ما منعه أن يرسِلَها إلاَّ خوفاً من تكذيبهم لها؛ فإذا كذَّبوا بها؛ عاجَلَهم العقابُ وحلَّ بهم من غير تأخيرٍ كما فعل بالأولين الذين كذبوا بها، ومن أعظم الآيات الآيةُ التي أرسلها الله إلى ثمود، وهي الناقة العظيمةُ الباهرة التي كانت تصدُرُ عنها جميع القبيلة بأجمعها، ومع ذلك كذَّبوا بها، فأصابهم ما قصَّ الله علينا في كتابه. وهؤلاء كذلك؛ لو جاءتهم الآيات الكبار؛ لم يؤمنوا؛ فإنَّه ما منعهم من الإيمان خفاءُ ما جاء به الرسول واشتباهه هل هو حقٌّ أو باطل؟ فإنه قد جاء من البراهين الكثيرة ما دلَّ على صحَّة ما جاء به الموجب لهداية مَنْ طلب الهداية؛ فغيرُها مثلُها، فلا بدَّ أن يسلكوا بها ما سلكوا بغيرها، فتركُ إنزالها والحالة هذه خيرٌ لهم وأنفع. وقوله: {وما نرسل بالآيات إلا تخويفاً}؛ أي: لم يكن القصدُ بها أن تكون داعيةً وموجبةً للإيمان الذي لا يحصُلُ إلاَّ بها، بل المقصود منها التخويف والترهيب؛ ليرتدِعوا عن ما هم عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔