تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا:} یعنی عذاب سے ڈرانے کے لیے، کیونکہ اگر وہ نہیں ڈریں گے تو ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ پر وحی آئی کہ اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہو تو میں اس پہاڑ کو ابھی سونے کا بنا دیتا ہوں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو اب انہیں مہلت نہ ملے گی، فی الفور عذاب آجائے گا اور تباہ کر دئے جائیں گے۔ اور اگر آپ کو انہیں تاخیر دینے اور سوچنے کا موقع دینا منظور ہے تو میں ایسا کروں۔ آپ نے فرمایا اے اللہ میں انہیں باقی رکھنے میں ہی خوش ہوں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22400:مرسل]
مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ { باقی کی اور پہاڑیاں یہاں سے کھسک جائیں تاکہ ہم یہاں کھیتی باڑی کر سکیں۔ } الخ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [مسند احمد:258/1:صحیح]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ { آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] جب اتری تو تعمیل ارشاد کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبل ابی قبیس پر چڑھ گئے اور فرمانے لگے اے بنی عبد مناف میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ قریش یہ آواز سنتے ہی جمع ہو گئے پھر کہنے لگے سنئے آپ نبوت کے مدعی ہیں۔ سلیمان نبی علیہ السلام کے تابع ہوا تھی، موسیٰ نبی علیہ السلام کے تابع دریا ہو گیا تھا، عیسیٰ نبی علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔
تو بھی نبی ہے اللہ سے کہہ کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹوا کر زمین قابل زراعت بنا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کریں۔ یہ نہیں تو ہمارے مردوں کی زندگی کی دعا اللہ سے کر کہ ہم اور وہ مل کر بیٹھیں اور ان سے باتیں کریں۔ یہ بھی نہیں تو اس پہاڑ کو سونے کا بنوا دے کہ ہم جاڑے اور گرمیوں کے سفر سے نجات پائیں،
اسی وقت آپ پر وحی اترنی شروع ہو گئی، اس کے خاتمے پر آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے جو کچھ مجھ سے طلب کیا تھا مجھے اس کے ہو جانے میں اور اس بات میں کہ دروازہ رحمت میں چلے جاؤ، اختیار دیا گیا کہ ایمان اسلام کے بعد تم رحمت الٰہی سمیٹ لو یا تم یہ نشانات دیکھ لو لیکن پھر نہ مانو تو گمراہ ہو جاؤ اور رحمت کے دروازے تم پر بند ہو جائیں تو میں تو ڈر گیا اور میں نے در رحمت کا کھلا ہونا ہی پسند کیا۔ }
یعنی آیتوں کے بھیجنے اور منہ مانگے معجزوں کے دکھانے سے ہم عاجز تو نہیں بلکہ یہ ہم پر بہت آسان ہے، جو تیری قوم چاہتی ہے، ہم انہیں دکھا دیتے لیکن اس صورت میں ان کے نہ ماننے پر پھر ہمارے عذاب نہ رکتے۔ اگلوں کو دیکھ لو کہ اسی میں برباد ہوئے۔
چنانچہ سورۃ المائدہ میں ہے کہ «قَالَ اللَّـهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ» [5-المائدة:115] میں تم پر دستر خوان اتار رہا ہوں لیکن اس کے بعد جو کفر کرے گا اسے ایسی سزا دی جائے گی جو اس سے پہلے کسی کو نہ ہوئی ہو۔
ثمودیوں کو دیکھو کہ انہوں نے ایک خاص پتھر میں سے اونٹنی کا نکلنا طلب کیا۔ صالح علیہ السلام کی دعا پر وہ نکلی لیکن وہ نہ مانے «فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» [11-هود:65] بلکہ اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، رسول کو جھٹلاتے رہے، جس پر انہیں تین دن کی مہلت ملی اور آخر غارت کر دئے گئے۔
ان کی یہ اونٹنی بھی اللہ کی وحدانیت کی ایک نشانی تھی اور اس کے رسول کی صداقت کی علامت تھی۔ لیکن ان لوگوں نے پھر بھی کفر کیا، اس کا پانی بند کیا بالاخر اسے قتل کر دیا، جس کی پاداش میں اول سے لے کر آخر تک سب مار ڈالے گئے اور اللہ غالب کی پکڑ میں آ گئے، آیتیں صرف دھمکانے کے لیے ہوتی ہیں کہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کر لیں۔
متفق علیہ حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان میں کسی انسان کی موت و حیات سے گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے بندوں کو خوفزدہ کر دیتا ہے، جب تم یہ دیکھو تو ذکر اللہ، دعا اور استغفار کی طرف جھک پڑو۔ اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں کہ اس کے لونڈی غلام زناکاری کریں۔ اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ جو میں جانتا ہوں، اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے بہت زیادہ روتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1044]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى رحمته بعدم إنزاله الآيات التي يقترحُ بها المكذِّبون، وأنَّه ما منعه أن يرسِلَها إلاَّ خوفاً من تكذيبهم لها؛ فإذا كذَّبوا بها؛ عاجَلَهم العقابُ وحلَّ بهم من غير تأخيرٍ كما فعل بالأولين الذين كذبوا بها، ومن أعظم الآيات الآيةُ التي أرسلها الله إلى ثمود، وهي الناقة العظيمةُ الباهرة التي كانت تصدُرُ عنها جميع القبيلة بأجمعها، ومع ذلك كذَّبوا بها، فأصابهم ما قصَّ الله علينا في كتابه. وهؤلاء كذلك؛ لو جاءتهم الآيات الكبار؛ لم يؤمنوا؛ فإنَّه ما منعهم من الإيمان خفاءُ ما جاء به الرسول واشتباهه هل هو حقٌّ أو باطل؟ فإنه قد جاء من البراهين الكثيرة ما دلَّ على صحَّة ما جاء به الموجب لهداية مَنْ طلب الهداية؛ فغيرُها مثلُها، فلا بدَّ أن يسلكوا بها ما سلكوا بغيرها، فتركُ إنزالها والحالة هذه خيرٌ لهم وأنفع. وقوله: {وما نرسل بالآيات إلا تخويفاً}؛ أي: لم يكن القصدُ بها أن تكون داعيةً وموجبةً للإيمان الذي لا يحصُلُ إلاَّ بها، بل المقصود منها التخويف والترهيب؛ ليرتدِعوا عن ما هم عليه.